اردو

نینوز ادویہّ نہیں ۔علاج کا نام ہے

.نینوکلے پلیٹس ایک غیر ادویاتی طریقہ علاج

ابتدائیہ
قدرت نے بے شمار چیزوں میں بے پناہ شفایابی رکھی ہے اور انسان کی داخلی اور خارجی ضرورتوں کوان کی تسخیر اور حصول کیلئے امکانی قوّت و توانائی کا وسیلہ بنایا ہے۔ ہزاروں سال سے بے شمار اہلِ علم اور محققین جسمانی، ذہنی اور روحانی تکالیف کے ازالے کیلئے مبذولِ جُستجو اور تحقیق کر رہے ہیں اور تاحال جدید سائنسی آلات اور انتہائی کار آمد مختلف طریقہ علاج اپنا چُکے ہیں ،کسی نے نباتات کو تحقیق کا ذریعہ بنایا تو کسی نے اینٹی الرجی اور اینٹی بائیوٹکس ایجاد یا دریافت کیں، کسی نے مادہ کی مخفی قوتوں کو تسخیر کرنے کی ٹھانی کسی نے جسم کے اندر پیدا ہونے والی بائیو کیمیکل توانائی اور ردِّ عمل کو بہت سے دُکھوں اور تکالیف سے نجات کا ذریعہ جانا۔ ان میں ہر طریقہءِ شفا ء حادثاتی طور پر دریافت ہوامثلاََ ایلوپیتھی پنسلین اور ہومیو پیتھی سنکو نامی دوا کی اتّفاقیہ دریافت سے وقوع پذیر ہوئی اور بعض علوم مسلسل علمی اور تجرباتی تعلیم اور تحقیق کے نتیجے میں بہتر سے بہتر منازل طے کرتے چلے گئے مثلاََ طبِّ یونانی، آیوووک اور چائینی طریقہ علاج وغیرہ اپنے اپنے طریقہ سے انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں ۔ آج کل کی جدید جینٹک اِنجینئرنگ  مستقبل قریب میں خاص جینیاتی اعداد اور کوڈزکو استعمال کر کے امراض کے علاج کی شنید دے رہی ہے۔انسان کا خمیر مٹّی سے اٹھایا گیا ہے اس لئے چٹانوں، پتھروں، کچ دھاتوں ، معدنیات اور مٹی میں موجود نمکیات سے تعلق اور ان کا استعمال ایک قدرتی عمل ہے ۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ نامیاتی مادوں کے درمیان کیمیاوی تعامل کی رفتار غیر نامیاتی مادوں کی نسبت عموماََ سُست ہوتی ہے اور مختلف ماحولیاتی حالات میں مختلف طریقوں سے توازن پذیر ہوتی ہے ۔ بہت سادہ سی مثال دہی کے جمنے کا عمل ہے دہی کے جرثومے خاص انداز کے حیاتیاتی اور کیمیاوی تعامل کے ذریعے تیزابی مادہ پیدا کرتے ہیں جو بہت آہستگی سے دودھ کو دہی میں تبدیل کرتے ہیں ، جبکہ کوئی بھی خام نامیاتی یا غیر نامیاتی تیزاب دودھ پر فوراََ کیمیاوی عمل کر کے دودھ کی ہیّت بدل دیتا ہے اور دہی نہیں بنتا، بہر حال یہ خاصا تکنیکی عمل ہے لہٰذا تفصیلات کو زیرِ موضوع نہیں رکھا جا ئے گا، اختصار کے ساتھ یہ کہنا مقصود ہے کہ مختلف چٹانوں کے اجزاء معدنیات اور نمکیات کے ذریعے علاج پر تحقیق بہت ہی محدود انداز میں ہوئی ہے جسکی بہت حد تک وجہ مذکورہ بالا غیر نامیاتی مادوں کے تیز کیمیائی عمل اور انکی عمل انگیزی کی خصوصیات ہیں۔
علامہ ڈاکٹر طارق محمودبنیادی طور پر ایک کیمیا دان ہیں اور بطور سائنسدان قابلِ قدر قومی خدمات سر انجام دے رہے ہیں ، طب کے ساتھ ان کی دلچسی اور تعلق ان کے لڑکپن کی عمر سے ہے۔ مختلف طریقہ ہائے علاج پر ان کا گہرا تقابلی مطالعہ ہے اور ان کے درمیان انسباطی تعلق ، فوائداور صحت پر مثبت اور منفی اثرات پر تحقیق میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔ڈاکٹر صاحب نے نینواور مائیکرو غیر ادویاتی طب کو ایک جدید انداز میں متعارف کروایا ہے ۔ ان کی 15 سالہ تحقیق ایک انتہائی موثر اور بعد از طبی معالجہ کے سمیتی اثرات سے پاک ایک نئے اور منفرد اندازِ علاج پر مفتج ہوئی ہے۔ جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ہے کہ معدنی نمکیات ، چٹانوں اور پتھروں سے نکلنے والے غیر نامیاتی اجزاء دھاتوں اور غیر دھاتوں کے پچیدہ مرکبات پر مشتمل ہوتے ہیں ۔ بڑی مقداروں میں انسانی جسم میں ان کا انجذاب بہت پیچیدگیوں کا باعث بنتا ہے جیسا کہ قدیم طب میں دھاتوں اور کشتوں کا غیر محتاط استعمال فوری اور دور رس خرابیِ صحت اور بسا اوقات مہلک ہو اکرتا تھا۔ وجہ ان کی غیر نامیاتی اجزاء کا براہءِ راست جسم کی بافتوں اور خلیات کے ساتھ تعامل ہوا کرتا ہے جس کے نتیجے میں بافتیں اور خلیات کو نقصان پہنچ جاتا ہے مزید یہ کہ ثانوی طور پر اندرونی حیاتیاتی زہر پیدا ہونا یا بننا شروع ہو جاتے ہیں اور مرض کے خاتمے کی جگہ مریض کے خاتمے کا باعث بن جاتے ہیں لیکن یہ بھی ایک مسلّمہ حقیقت اور بار بار کے تجربات و مشاہدات سے ثابت شدہ ہے کہ معدنی اجزاء ایک قلیل مقدار میں جسمانی بافتوں اور خلیوں کی تعمیری نشو و نما میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔
زرعی تحقیقات اور سفارشات کے نتیجے میں زرعی اجناس کی پیداواری صلاحیت میں اضافے کے ساتھ گیہوں ،چاول اور دالوں میں معدنی اجزاء کی کمی بھی ہوئی ہے جس کی وجہ سے مجموعی صحت کا معیارگر گیا ہے اور بیماریوں سے لڑنے کی مدافعت میں کمی ہو ئی ہے، اسی لئے آج کل خاص قسم کے اضافی غذائی مصنوعات مستعمل ہیں خصوصاََ حاملہ خواتین کو اضافی معدنی اجزاء مثلاََ لوہے،تانبے،زِنک(جست) ، مینگانیز،کیلشیم، پوٹاشیم وغیرہ سے بھرپور اضافی غذائی اجزاء تجویز کئے جاتے ہیں تاکہ جسمانی اور ذہنی افعال کی کارکردگی قائم رہے لیکن ان معدنی اجزاء اور نمکیات کے تمام تر فوائدنظا م انہضام کے عضلات میں براہ راست انجذاب اور ان کے کیمیاوی عمل و توازن کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ یہ اجزاء بذاتِ خود کسی بیماری کا علاج نہیں ہوتے اور اپنا عارضی کردار ادا کر کے جسم میں فاضل مادوں کے نظام اخراج کے ذریعے جسم سے خارج ہو جاتے ہیں ۔ پھر دہرایا جاتا ہے کہ یہ معدنیات یا نمکیات اور حیاتیاتی مرکبات کسی بیماری یا مرض کا علاج نہیں ہوتے بلکہ ان کی موجودگی جسم میں ان کی کارکردگی بہتر اور ادویات کو موثر بناتی ہے۔

ڈاکٹر صاحب نے ایک لمبے عرصے کی تحقیق ، تجربات اور مشاہدات کے بعد قدرتی چشموں کے رسُوب اور قدرتی چٹانوں کے معدنی اجزاء و نمکیات اور خوردنی اجزاء کو ایک خاص طبعی و کیمیائی طریقہ سے شفایابی اور امراض کے موثر علاج کا ذریعہ بنا دیا ہے ۔ ان معدنی وحیا تیاتی اجزاء کی ترکیب اور تیاری کا ایسا طریقہ وضع کیا گیا ہے کہ ان اجزاء کے انتہائی باریک ذرّات جنہیں آجکل نینو یعنی کسی مقدار کا 1/1000000000 حصہ کہا جاتا ہے میں تبدیل کر دیا جاتا ہے جسکی وجہ سے ان کی طبعی خصوصیات ٹھوس اور سیال مادوں کے بین ہو جاتی ہیں۔بطور سیال مادہ ان انتہائی باریک اور چھوٹے ذرّات کا جسمانی باقتوں میں انجذاب ممکن ہو جاتا ہے اور بطور ٹھوس یہ براہِ راست حیاتیاتی اور کیمیاوی تبدیلی کا عملاََشکار نہیں ہوتے جسکا لازمی اثر جسم کے اندر ردِّ عمل اور تحرک کا قرار واقع ہوتا ہے۔ ابتداََ جسم کے خلیوں میں قدرت کا ودیدیّت کردہ جینیاّتی معلومات کا نظام انتہائی پیچیدہ انداز میں متعلقہ بافتوں میں اٹے ہوئے ان نینو ذرّات کی ساخت اور اجزائے ترکیبی کا اندازہ لگانے کی طرف مبذول ہوتا ہے اور جینیاتی معلومات کے ذریعے اخذ کرتا ہے کہ یہ بیرونی ذرّات جسم کیلئے مفید ہیں یا کسی نقصان کا باعث بن سکتے ہیں ۔ دونوں صورتوں میں جسم کا مدافعتی نظام متحرک ہو کر خاص قسم کے سیرم یا سیّال مادوں کی پیداوار اور متعلقہ بافتوں میں اُن کا افراز شروع کر دیتا ہے۔ یہ تمام معلومات جسم کے اندر خاص برقی لہروں کے نظام سے تمام جسم کے خلیوں تک پہنچ کر موثر ہو جاتی ہیں ۔ اگر جینیاتی معلومات کا نظام ان بیرونی ذرّات کو مفید جانتا ہے ( مثلاََ کیلشیم، مگنیشیم، زنک سوڈیم اور پوٹاشیم یا دوسرے حیاتیاتی اجزاء وغیرہ ) تو ایسے سیال مادوں یا سیرم کے افراز کو یقینی بناتا ہے جو ان نینو معدنی ذراّت کو تحلیل کر کے بافتوں کا حصّہ بنا دیتے ہے ۔ اس عمل سے جہاں یہ ” بیرونی ذراّت”تحلیل ہو جاتے ہیں وہاں جسم کے اندر کسی بھی وجہ سے مجتمع ہو کر جم جانے والے مادے بھی تحلیل ہو جاتے ہیں اور خون کی نالیوں ،دل، گردوں، تلی، جگر، مثانے اور جوڑوں کی نسیجوں میں غیر ضروری طور پر جم جانے والے مادوں کو تحلیل کر کے ان اعضاء میں امراض کے خاتمہ کا باعث بنتے ہیں ۔ دوسری صورت میں جینیاتی معلومات کا نظام ان خوردنی و معدنی ذراّت کو غیر مفید جان کرمذکورہ تحلیل کرنے والے سیال مادوں کے ذریعے جسم کے موزوں حصّوں سے خون، پیپ اور اس ملتی جلتی عفونتوں کے ذریعے باہر نکال دیا جاتا ہے اور اس عمل کے دوران جسم میں پہلے سے موجود امراض کی وجہ سے سوزش اور اُن سے متعلق زہریلے مادوں کا اخراج ممکن ہو جاتا ہے ، کینسر تک کا مریض شفایاب ہو سکتا ہے ۔ تکنیکی لحاظ سے یہ تمام عوامل نہایت پیچیدہ ہیں لیکن قاری کو سمجھانے کیلئے یہ سطور سادہ اور قابلِ فہم انداز میں ہیش کر دی گئی ہیں تاکہ نئی تحقیق اور تجربات سے ماخوذ فوائدسے استفادہ کیا جا سکے ۔
بہر حال چٹانوں کی نسیجوں سے ،زمین کے اندر گہرائی سے، مختلف علاقوں میں چشموں کے پانیوں کے رسوُب ، کچ دھاتوں سے انتہائی مفید اور شفایابی کی عظیم قوّت سے مزیّن مختلف اقسام کے ان مائیکرو اورنینو معدنی و غذائی اجزاء اور نمکیات کا حصول کافی بڑا تکنیکی معاملہ اور صبر آزما مراحل کا ایک طویل سلسلہ ہے جسے خوش اسلوبی اور محنت سے طے کر لیا گیا ہے ۔ آخری مشکل مرحلہ ان معدنی و حیاتیاتی مرکبات اور نمکیات کا ناقابلِ پیمائش انتہائی قلیل مقدار میں خالص حالت میں محفوظ رکھنا اور ان کی تاثیر کو برقرار رکھنا ہے ۔ بار ہائے تجربات سے معلوم ہوا کہ پانی کی کسی بھی شکل میں یہ مرکبات چند ہفتوں میں اپنی تاثیر اور شفایابی کی خصوصیات کھو دیتے ہیں ، اس لئے خاص اقسام کی مٹی(کلے) کو استعمال کر کے اسے ہتھیلی پر قابلِ استعمال ہاون دستے کی شکل دی گئی ہے ۔ تیاری کے مراحل میں اس مٹی کی چھوٹی سی پیالی یا تھالی جسے ہم نے کلے پلیٹس کا نام دیا ہے پر انتہائی مہارت سے ان نینو معدنی و خوردنی اجزاء کی سطح بنائی گئی ہے۔ جسے سیل ہونے والے گہرے رنگ کے لفافے میں محفوظ کیا گیا ہے ۔ مرض کی معلومات کے مطابق مختلف کلے پلیٹس تجویز کی جاتی ہیں ،بوقت ضرورت 1/2 یا ایک گرام صاف اور خشک مکئی یا چاول کا آٹایا گلوکوز اس کلے پلیٹس پر 2سے 5منٹ تک کھرل کیا جاتا ہے ۔اس خشک سفوف کو ایک صاف (بغیر لکیر اور لکھائی ) کے سفید کاغذ پر آہستگی سے اُلٹ کر فوری طور پر پلیٹ کو واپس سیل ہونے والے لفافے میں محفوظ کر لیا جاتا ہے،ایک دفعہ تیار کیا ہوا سفوف ایک دن تک کے استعمال کیلئے کافی ہوتا ہے ، یومیہ تین سے چھ خوراک کا استعمال کھانا کھانے سے آدھا گھنٹہ پہلے یا بعد زبان پر رکھ کر حل کر لیا جائے ۔ 
نوٹ: یہاں یہ بتانا انتہائی ضروری ہے کہ نینوز کے ذریعے طریقہ علاج فقط ایک خلیاتی تحرک کا نام ہے دوا کا ستعمال نہیں ہے۔
اس طرح استعمال ہونے والے سفوف کوکسی بھی صورت میں دوایا میڈیسن نہیں کہا جا سکتا اور نہ ہی اسے بطور دوا پیش کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے ، اسلئے کہ کسی بھی چیز کو بطور دوا پیش کرنے کیلئے اسکی انسانوں اور جانوروں پر پروونگ کی جاتی ہے ۔ اس چیز کے حیاتیاتی و کیمیاوی اثرات کا جائزہ لیا جاتا ہے اس کی شفایابی اور سمی اثرات کا تعین کر کے مریض کی عمر اور وزن کے لحاظ سے دوا کی مقدار طے کرنے کے لئے قوانین بنائے جاتے ہیں لیکن مجوزہ طریقہ علاج میں سفوف کیمیاوی طور پر صرف چینی ، گلو کوز ،مکئی کا آٹا یا چاول سے ما خوذخاص طریقہ سے تیار ہونے والا نشاستہ ہی ہوتا ہے اور اس کے اندر ناقابلِ پیمائش انتہائی حقیر و خفیف معدنی اجزاء اور نمکیات کی مقدار اُس سے بھی کم ہے جو ہماری روز مرہ خوراک اور پینے والے پانی میں قدرتی طور پر پائے جاتے ہیں ۔ مزید مریض کو دئیے جانے والے سفوف کی مقدار کا مریض کی عمر اور وزن سے کوئی تعلق نہیں یہ ایک وقت میں کسی بھی مقدار میں استعمال کی جا سکتی ہے ۔ اس لحاظ سے سفوف دراصل ایک ذریعہ ہے جو ایک خاص طریقہ پر بنائے گئے نہایت قلیل نینو معدنی مرکبات اور نمکیات و خوردنی اجزاء کی شفاء عطا کرنے کی خصوصیات و اطلاعات کو انسانی جسم تک بہم پہنچانے کا کردار ادا کرتا ہے ۔ اسی لئے اس طریقہِ علاج کو زیادہ سے زیادہ مدافعتی نظام کی ایک تھراپی یا تحرک کہا جا سکتا ہے جو دن میں ایک سے زیادہ دفعہ ددہرائی جا سکتی ہے ۔ چونکہ کیمیاوی مقدار عملاََ صفر ہے اس لئے سمی اثرات یعنی سائیڈ ایفکٹس محال ہیں اور کوئی معکوس ردِّ عمل (ری ایکشن) بھی پیدا نہیں ہوتا ہے۔

کلے پلیٹس کیا ہیں ؟

 
کلے پلیٹس خاص اقسام کی انتہائی باریک (مائیکرو تا نینو سائز) مٹی سے تیار کی گئی تھالی کی شکل ہے جس سے نینوز تیار کرنے کے لئے ہاون دستے کا کام لیا جاتا ہے ۔ ان پلیٹس یا تھالی کے ذرات پر جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے خوردنی، معدنی و حیاتیاتی اجزاء سے مزین کیاجاتا ہے ۔ ان قدرتی و خوردنی اجزاء و معدنیات اور نمکیات کو انتہائی باریک یعنی نینو سائز میں تبدیل کر کے ان کی انتہائی قلیل مقدار سے انسانیت کو درپیش تقریباََ تمام طبی امراض کے علاج کا ذریعہ بنایا گیا ہے۔ ان ذراّت کو انتہائی مہارت کے ساتھ خاص قسم کی مٹی یا(کلے) کے پلیٹ پر جذب کیا گیا ہے اور ان کی شفائی خصوصیات کو ’’شےئر انڈیوسنگ ایفکٹ‘‘ کے ذریعے پلیٹ میں کھرل کی جانے والی مکئی یا چاول کے آٹے اور گلوکوزکی تھوڑی سی مقدار میں منتقل کر کے دن کے مختلف اوقات میں دہرایا جاتا ہے ۔ اس طریقہ سے بننے والا سفوف جو کہ ہر لحاظ سے مکئی یا چاول کا آٹا یا پوڈر ہی ہوتا ہے جو ایک زبر دست طریقے سے جسم کی بافتوں اور خلیوں کی تھراپی کا باعث بنتا ہے جسکے نتیجے میں پیدا ہونے والا اندرونی تحرک جسم کی خلیوں اور بافتوں میں مفید مادوں کے انجذاب اور غیر مفید فاسد مادوں کے اخراج کا باعث بنتا ہے ۔نتیجہََ مریض صحت یاب ہو جاتا ہے ۔ یاد رکھیے یہ طریقہِ شفاء ایک تھراپی یا تحرک کی شکل ہے ،ادویہ کا استعمال نہیں ہے

نینو معدنی اور خوردنی اجزاء سے کیسے علاج ہو تا ہے؟

 
علامہ ڈاکٹر طارق محمود صاحب نے اپنے ایک چائینی ہم عصر کے ساتھ ایک لمبے عرصے کی تحقیق ، تجربات اور مشاہدات کے بعد قدرتی چشموں کے رسُوب اور قدرتی چٹانوں کے معدنی اجزاء و نمکیات اور خوردنی اجزاء کو ایک خاص طبعی و کیمیائی طریقہ سے شفایابی اور امراض کے موثر علاج کا ذریعہ بنا دیا ہے ۔ ان معدنی وحیا تیاتی اجزاء کی ترکیب اور تیاری کا ایسا طریقہ وضع کیا گیا ہے کہ ان اجزاء کے انتہائی باریک ذرّات جنہیں آجکل نینو یعنی کسی مقدار کا 1/1000000000 حصہ کہا جاتا ہے میں تبدیل کر دیا جاتا ہے جسکی وجہ سے ان کی طبعی خصوصیات ٹھوس اور سیال مادوں کے بین ہو جاتی ہیں۔بطور سیال مادہ ان انتہائی باریک اور چھوٹے ذرّات کا جسمانی باقتوں میں انجذاب ممکن ہو جاتا ہے اور بطور ٹھوس یہ براہِ راست حیاتیاتی اور کیمیاوی تبدیلی کا عملاََشکار نہیں ہوتے جسکا لازمی اثر جسم کے اندر ردِّ عمل اور تحرک کا قرار واقع ہوتا ہے۔ ابتداََ جسم کے خلیوں میں قدرت کا ودیدیّت کردہ جینیاّتی معلومات کا نظام انتہائی پیچیدہ انداز میں متعلقہ بافتوں میں اٹے ہوئے ان نینو ذرّات کی ساخت اور اجزائے ترکیبی کا اندازہ لگانے کی طرف مبذول ہوتا ہے اور جینیاتی معلومات کے ذریعے اخذ کرتا ہے کہ یہ بیرونی ذرّات جسم کیلئے مفید ہیں یا کسی نقصان کا باعث بن سکتے ہیں ۔ دونوں صورتوں میں جسم کا مدافعتی نظام متحرک ہو کر خاص قسم کے سیرم یا سیّال مادوں کی پیداوار اور متعلقہ بافتوں میں اُن کا افراز شروع کر دیتا ہے۔ یہ تمام معلومات جسم کے اندر خاص برقی لہروں کے نظام سے تمام جسم کے خلیوں تک پہنچ کر موثر ہو جاتی ہیں ۔ اگر جینیاتی معلومات کا نظام ان بیرونی ذرّات کو مفید جانتا ہے ( مثلاََ کیلشیم، مگنیشیم، زنک سوڈیم اور پوٹاشیم یا دوسرے حیاتیاتی اجزاء وغیرہ ) تو ایسے سیال مادوں یا سیرم کے افراز کو یقینی بناتا ہے جو ان نینو معدنی ذراّت کو تحلیل کر کے بافتوں کا حصّہ بنا دیتے ہے ۔ اس عمل سے جہاں یہ ” بیرونی ذراّت”تحلیل ہو جاتے ہیں وہاں جسم کے اندر کسی بھی وجہ سے مجتمع ہو کر جم جانے والے مادے بھی تحلیل ہو جاتے ہیں اور خون کی نالیوں ،دل، گردوں، تلی، جگر، مثانے اور جوڑوں کی نسیجوں میں غیر ضروری طور پر جم جانے والے مادوں کو تحلیل کر کے ان اعضاء میں امراض کے خاتمہ کا باعث بنتے ہیں ۔ دوسری صورت میں جینیاتی معلومات کا نظام ان خوردنی و معدنی ذراّت کو غیر مفید جان کرمذکورہ تحلیل کرنے والے سیال مادوں کے ذریعے جسم کے موزوں حصّوں سے خون، پیپ اور اس ملتی جلتی عفونتوں کے ذریعے باہر نکال دیا جاتا ہے اور اس عمل کے دوران جسم میں پہلے سے موجود امراض کی وجہ سے سوزش اور اُن سے متعلق زہریلے مادوں کا اخراج ممکن ہو جاتا ہے ، کینسر تک کا مریض شفایاب ہو سکتا ہے ۔ تکنیکی لحاظ سے یہ تمام عوامل نہایت پیچیدہ ہیں لیکن قاری کو سمجھانے کیلئے یہ سطور سادہ اور قابلِ فہم انداز میں ہیش کر دی گئی ہیں تاکہ نئی تحقیق اور تجربات سے ماخوذ فوائدسے استفادہ کیا جا سکے ۔
بہر حال چٹانوں کی نسیجوں سے ،زمین کے اندر گہرائی سے، مختلف علاقوں میں چشموں کے پانیوں کے رسوُب ، کچ دھاتوں سے انتہائی مفید اور شفایابی کی عظیم قوّت سے مزیّن مختلف اقسام کے ان مائیکرو اورنینو معدنی و غذائی اجزاء اور نمکیات کا حصول کافی بڑا تکنیکی معاملہ اور صبر آزما مراحل کا ایک طویل سلسلہ ہے جسے خوش اسلوبی اور محنت سے طے کر لیا گیا ہے ۔ آخری مشکل مرحلہ ان معدنی و حیاتیاتی مرکبات اور نمکیات کا ناقابلِ پیمائش انتہائی قلیل مقدار میں خالص حالت میں محفوظ رکھنا اور ان کی تاثیر کو برقرار رکھنا ہے ۔ بار ہائے تجربات سے معلوم ہوا کہ پانی کی کسی بھی شکل میں یہ مرکبات چند ہفتوں میں اپنی تاثیر اور شفایابی کی خصوصیات کھو دیتے ہیں ، اس لئے خاص اقسام کی مٹی(کلے) کو استعمال کر کے اسے ہتھیلی پر قابلِ استعمال ہاون دستے کی شکل دی گئی ہے ۔ تیاری کے مراحل میں اس مٹی کی چھوٹی سی پیالی یا تھالی جسے ہم نے کلے پلیٹس کا نام دیا ہے پر انتہائی مہارت سے ان نینو معدنی و خوردنی اجزاء کی سطح بنائی گئی ہے۔ جسے سیل ہونے والے گہرے رنگ کے لفافے میں محفوظ کیا گیا ہے ۔ مرض کی معلومات کے مطابق مختلف کلے پلیٹس تجویز کی جاتی ہیں ،بوقت ضرورت 1/2 یا ایک گرام صاف اور خشک مکئی یا چاول کا آٹایا گلوکوز اس کلے پلیٹس پر 2سے 5منٹ تک کھرل کیا جاتا ہے ۔اس خشک سفوف کو ایک صاف (بغیر لکیر اور لکھائی ) کے سفید کاغذ پر آہستگی سے اُلٹ کر فوری طور پر پلیٹ کو واپس سیل ہونے والے لفافے میں محفوظ کر لیا جاتا ہے،ایک دفعہ تیار کیا ہوا سفوف ایک دن تک کے استعمال کیلئے کافی ہوتا ہے ، یومیہ تین سے چھ خوراک کا استعمال کھانا کھانے سے آدھا گھنٹہ پہلے یا بعد زبان پر رکھ کر حل کر لیا جائے ۔ 
نوٹ: یہاں یہ بتانا انتہائی ضروری ہے کہ نینوز کے ذریعے طریقہ علاج فقط ایک خلیاتی تحرک کا نام ہے دوا کا ستعمال نہیں ہے۔
اس طرح استعمال ہونے والے سفوف کوکسی بھی صورت میں دوایا میڈیسن نہیں کہا جا سکتا اور نہ ہی اسے بطور دوا پیش کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے ، اسلئے کہ کسی بھی چیز کو بطور دوا پیش کرنے کیلئے اسکی انسانوں اور جانوروں پر پروونگ کی جاتی ہے ۔ اس چیز کے حیاتیاتی و کیمیاوی اثرات کا جائزہ لیا جاتا ہے اس کی شفایابی اور سمی اثرات کا تعین کر کے مریض کی عمر اور وزن کے لحاظ سے دوا کی مقدار طے کرنے کے لئے قوانین بنائے جاتے ہیں لیکن مجوزہ طریقہ علاج میں سفوف کیمیاوی طور پر صرف چینی ، گلو کوز ،مکئی کا آٹا یا چاول سے ما خوذخاص طریقہ سے تیار ہونے والا نشاستہ ہی ہوتا ہے اور اس کے اندر ناقابلِ پیمائش انتہائی حقیر و خفیف معدنی اجزاء اور نمکیات کی مقدار اُس سے بھی کم ہے جو ہماری روز مرہ خوراک اور پینے والے پانی میں قدرتی طور پر پائے جاتے ہیں ۔ مزید مریض کو دئیے جانے والے سفوف کی مقدار کا مریض کی عمر اور وزن سے کوئی تعلق نہیں یہ ایک وقت میں کسی بھی مقدار میں استعمال کی جا سکتی ہے ۔ اس لحاظ سے سفوف دراصل ایک ذریعہ ہے جو ایک خاص طریقہ پر بنائے گئے نہایت قلیل نینو معدنی مرکبات اور نمکیات و خوردنی اجزاء کی شفاء عطا کرنے کی خصوصیات و اطلاعات کو انسانی جسم تک بہم پہنچانے کا کردار ادا کرتا ہے ۔ اسی لئے اس طریقہِ علاج کو زیادہ سے زیادہ مدافعتی نظام کی ایک تھراپی یا تحرک کہا جا سکتا ہے جو دن میں ایک سے زیادہ دفعہ ددہرائی جا سکتی ہے ۔ چونکہ کیمیاوی مقدار عملاََ صفر ہے اس لئے سمی اثرات یعنی سائیڈ ایفکٹس محال ہیں اور کوئی معکوس ردِّ عمل (ری ایکشن) بھی پیدا نہیں ہوتا ہے

نینوزکے استعمال کا دورانیہ

کسی بھی تکلیف کی علامات میں شدّت اور بگاڑ کی نوعیت اور عرصہ کلے پلیٹس کے استعمال کے دورانیے کا تعین کرتا ہے ۔عموماً کلے پلیٹس کا ایک سے سات دن کا استعمال عام تکالیف سے نجات دلا دیتا ہے، پرانے امراض جن کا خصوصی طور پر علاج دوسرے طبی طریقوں سے کیا جاتا رہا ہو اور ” مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی” والی صورت پیدا ہو گئی ہو تو کلے پلیٹس کے استعمال کا دورانیہ ایک ہفتہ سے 12ہفتوں تک ہو سکتا ہے ۔ یہ بات ملحوظ خاطر رکھی جائے کہ مسائل کا تمام ریکارڈ مثلاََ تکلیف کی نوعیت ،شدّت ، علامات وغیرہ دوسرے طریقہ ہائے علاج سے فائدہ/ نقصان ، عرصہ استعمال اور کلے پلیٹس کے استعمال سے فوائد اور شفاء کمپیوٹرائزڈ رکھا جائے گا تاکہ تحقیق اور بہتری کا راستہ کھلا رہے ، خصوصی طور پر وہ لوگ جو ہماری کلے پلیٹس کے مناسب چناؤ کے باوجود کسی وجہ سے مکمل شفایاب نہ ہو سکیں گے ،وہ ہمارے لئے چیلنج ،غور و فکر و مطالعہ کا باعث ہونگے اور 12 ہفتوں کے استعمال کے بعد کی کلے پلیٹس کا خرچ ( اگلے 12 ہفتوں کیلئے) ہمارے ذمہ ہو گا اور تحقیق جاری رہے گی۔کہ اس خاص شخص کو درپیش کونسے ایسے عوامل ہیں جو کلے پلیٹس کی مسیحا ئی کے مانع ہیں او راس طرح جستجو اور مطالعے سے کلے پلیٹس کی کارکردگی کو مذید فعال بنایا جائے  گا 

کلے پلیٹس کے متعلق تعلیم و اسناد کا اجراء

دلچسپی رکھنے والے خواتین و حضرات اس جدید طریقہ شفاء سے متعلق علم اور تجربہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ای۔ میل کے ذریعے فارم جمع کروا کر رجسٹریشن نمبر حاصل کر سکتے ہیں جنہیں وقتاََ فوقتاََ لیٹر بھیج دیا جائے گا اسکے علاوہ فارم منگوا کر بذریعہ ڈاک بھی رجسٹریشن ہو سکتی ہے۔رجسٹریشن فیس مبلغ 350/-روپے ہیں ۔ تین ماہ کے شارٹ کورس کے بعد کلے پلیٹس تھراپی کی اجازت اور سرٹیفیکیٹ جاری کیا جائے گا ، کورس کی کل فیس 5000/- روپے ہے۔ غیر ملکی افراد کے لئے یہ فیس 100/- امریکی ڈالر ہیں

ادویہ کے بغیر جسم اور روح کی حفاظت نینوز کے ساتھ

آپ کو پتہ ہے کہ ہم سب لوگ خوراک کھاتے ہیں جو ہمیں توانائی کے ساتھ جسم کو ضروری اجزاء مہیا کرتی ہے ۔ خوراک میں بے 

شمار نامیاتی اجزاء مثلاً لحمیات، روغنیات ، انزائمز ، وٹامن (حیاتین) ، تیزابی اور اساسی مادے ، طرح طرح کے معدنی اجزاء و نمکیات شامل ہوتے ہیں جو کہ جسم کی کارکردگی کو بہتر رکھتے ہیں ، اور جسم کے اندر خلیوں میں بافتوں کی شکست و ریخت کے درمیان توازن کو برقرار رکھتے ہیں ۔ لیکن بہت سے اندرونی و بیرونی ماحولیاتی ، جراثیمی اور وائرس خوراک میں ضروری لحمیات ، حیاتین اور نمکیات و معدنی اجزاء کی کمی یا بیشی خلیات اور بافتوں کی کارکردگی متاثر کرتی ہے جس کے نتیجے میں مذکورہ بالا اجزاء کا جسم کے مختلف حصوں کی بافتوں میں بے ہنگم اجتماع ہو جاتا ہے جو عضلات کے اندر سوزش سمیت درد اور عمومی کارکردگی کو متاثر کر کے مختلف تکالیف اور بیماریوں کی علامات کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے ۔ جس سے مریض میں بہت سے نفسیاتی و روحانی مسائل اور مزاج میں تبدیلیوں کے اثرات پیدا ہوتے ہیں جنہیں کم علمی اور جہالت کی وجہ سے روحانی اثرات ان کے امراض سے تعبیر کر کے مریضوں کو تعویز دھاگوں اور وظائف کی لاحاصل کوشش میں جھونک کر مرض کو لاعلاج حالت میں پہنچا دیا جاتا ہے ۔ مریض درد کی اس کیفیت میں حکمت ، ایلو پیتھک ، ہومیو پیتھک آیو ویدک، چائنی یا یونانی طریقہ کے معالج کے پاس پہنچ جاتا ہے اور انتہائی قیمتی اور سمیتی اثرات کی حامل ادویہ کا استعمال شروع کر دیتا ہے ۔ مرض کا عموماً عارضی حل کر دیا جاتا ہے جو جلد ہی دوا کے سیمتی اثرات سے پیچیدگیوں کا باعث بن کر مزید امراض کا شکار ہو جاتا ہے اور مستقل ادویات کا عادی ہو جاتا ہے یا عضلات و اعصاب کے عمل جراحی سے گزر کر خطرہ جان بنتا ہے ۔ بہت عام مثال روغنیات(کولیسٹرول) بڑھنے اور ذیابیطس کے مریضوں کے علاج کی ہے ۔ ان امراض کی وجہ کچھ بھی ہو کولیسٹرول کو کیمیائی عمل سے کم کرنے کی ادویات دے کر جسم میں عارضی طور پر کولیسٹرول کی کمی لائی جاتی ہے لیکن اسکا باعث بننے والے تحرک کا ازالہ نہیں کیا جاتا اس لئے ادویہ کا مسلسل استعمال بذات خود مہلک ثابت ہوتا ہے ۔ اسی طرح ذیا بیطس کے مریضوں کو انسولین کے افراز کو بڑھانے والی ادویات کی مقدار بڑھاتے بڑھاتے گردوں کی تباہی و خرابی کا باعث بن کر مریض کو لا علاج بنا دیتی ہے ۔ ہماری تحقیق یہ ہے کہ مکمل اور دیر پا علاج ادویہ میں ہر گز نہیں ہے قدرت نے خوراک کے اجزاء کے توازن میں خرابی کا علاج ان اجزاء کے نینوزکی شکل میں رکھا ہے ۔ نینوز آج کی انتہائی جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بنائے جاتے ہیں ۔ یہ نینو سکیل یا پیمانہ (1/1000,000,000میٹر) پر براستہ بافتی خلیہ میں براہ راست انجذاب کے ذریعہ خلیہ کے اندر سائٹو پلازم کے تحرک کے نتیجہ میں بافتوں میں اٹے ہوئے ضروری و غیر ضروری اجزاء کے انجماد یا اجتماع کو مخصوص مائع (سیرم) میں تحلیل کر کے جسم میں نظام انجذاب یا اخراج کے ذریعے دور یا ختم کر دئیے جاتے یں اور مریض بغیر ادویات کے مکمل صحت یاب ہو جاتا ہے ۔ یاد رکھئے نینوز ہماری خوراک مثلاً مختلف اناج ، سبزیوں ، پھلوں کے کشید اور قدرتی چشموں کے پانیوں کے مخصوص اور مفید معدنی اجزاء اور نمکیات کی نینو سکیل پر (یعنی انتہائی حقیر مقدار جو عموماً ہماری خوراک میں موجود اجزاء سے بھی کم ہو تی ہے )کیمیاوی ترکیب سے بنائے جاتے ہیں۔ اور یہ ہر گز ادویہؔ نہیں ہیں کیونکہ کسی چیز کے بطور دوا استعمال سے پہلے تجربات کے ذریعے اس کے کیمیائی خصائص اور جسم پر عمر اور وزن کے لحاظ سے مقدار کا تعین کر کے سمیتی اثرات ( سائیڈ ایفکٹس) کا اندازہ لگا یا جاتا ہے جبکہ نینوز کی مقدار کا عمر اور وزن سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے صرف دُہرانے کے مخصوص اوقات پر توجہ دی جاتی ہے ۔ یہ بغیر ادویہ کے ایک مکمل ’’جسمانی و روحانی ‘‘ مسائل کا بہترین اور دیر پا طریقہ علاج ہے ۔ نینوز اپنائیے ۔ اپنا علاج بغیر سمّی اثرات (سائیڈ ایفکٹس) خود کیجئے ۔ ادویاّ ت سے بچئے ، اپنی رقم بچائیے ۔ ماحول کو ادویاّ تی آلودگی سے بچائیے اور ایک صحت مند معاشرہ تشکیل دے کر اپنی اور ملکی ترقی میں حصہ ڈالئے ۔ نینوز بے ضررؔ ہیں ۔ انتہائی موثر علاج ہیں اور آ پ کی صحت کے مظبوط ترین ساتھی ۔ مزید معلومات کیلئے ہماری ویب سائٹ دیکھئے۔
نوٹ: علامات کی شدت ہو تو فوراً ہسپتال سے ابتدائی طبی مدد حاصل کریں ۔ حادثاتی اثرات میں کمی کے بعد نینوز کا استعمال جاری کیا جاسکتا ہے ۔

 

Rohani Elaj (Spiritual Care) with NANOS/

نینوزکے ساتھ رُوحانی تکالیف کا علاج

نینوزکے ساتھ رُوحانی تکالیف کا علاج
روحانی مسائل کے حل کیلئے دُنیا کی تقریباََ ہر قوم کے مذہبی پیشواء ” ذکر اذکار” تعویز گنڈے اور ایسے بے شمار عملیات سے پچیدہ مسائل کا حل تجویز کرتے ہیں اور انہیں اپنی کمائی کا ذریعہ بناتے ہیں ان سب میں مشترک عمل یہ ہے کہ کچھ کلمات کو پڑھا جاتا ہے پڑھ کر پھونکا جاتا ہے پڑھ کر کھلایا یا پلایا جاتا ہے اور مزید نفسیاتی اثر ڈالنے کیلئے عجیب و غریب اور بے منطق حرکات سکنات ادا کر کے سائل کو قائل اور متاثر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ کسی بھی مذہبی بحث میں اُلجھے بغیر ایک بات بہر حال وثوق سے کی جا سکتی ہے کہ کسی منتر یا وظیفے کو بار بار پڑھنے ،پڑھ کر پھونکنے یا اسے کہیں دبا کر اور کسی جگہ چھپا کر مریض کا علاج نہیں کیا جا سکتا بلکہ کسی طبی ہدایت اور نسخے پر عمل پیرا ہو کرہی شفا حاصل کی جاسکتی ہے کیونکہ طبی نسخہ خدا کی ودیّت کردہ طبی یا کیمیائی خصوصیات کے تحت جسمانی ،نفسیاتی اور روحانی علاج کا باعث بنتا ہے ۔
اس کائنات کی ہر چیز اپنے اندر مادی و روحانی خصوصیات رکھتی ہے ، مثلاََ عام کھانے کا نمک زیادہ مقدار میں کھانا شروع کر دیں تو مادی طور پر بہت سی جسمانی تکالیف جن میں آنکھیں ،ناک،معدہ اور اعصاب کے مسائل کے ساتھ عجیب و غریب غیر مادی اور روحانی علامات بھی پیدا ہو جاتی ہیں مثلاََ خواب کی حالت میں خوف، نقصانات اور چوروں یا ڈاکوؤں سے لُٹنے خدشات مریض پر وارد ہو جاتے ہیں اور کسی مناسب علاج کی غیر موجودگی میں یہ روحانی مسائل گمبھیر ہو جاتے ہیں ۔ اسی طرح اگر چاندی اور سونے جیسی دھاتوں کو خوردنی طور پر کثرت سے استعمال کریں تو جسمانی تکالیف مثلاً ہڈیوں اور پٹھوں میں بگاڑ کے علاوہ روحانی طور پر مریض پژمردہ ،جلد باز یا جنونی ، مایوس اور ہر وقت خود کشی کے خیالات کی روِش کا شکار ہو جاتا ہے اور اکثر کسی مناسب طبی طریقہ سے علاج کے بجائے نام نہاد مذہبی اور روحانی پیشواؤں کے ہتھے چڑھ کرمرض خطرناک حد تک پہنچ جاتا ہے یا لا علاج ہو جاتا ہے۔
کلے پلیٹس کے اندر رکھے گئے غیر مادی حد تک انتہائی خفیف اور انتہائی باریک تقریباََ غیر مادی حد تک ذرّات بے شمار ایسے ’’روحانی مسائل‘‘ کے حل کی طاقت رکھتے ہیں جن میں سوچ کا بدلنا ،کام سے جی چرانا،کام یا پڑھائی میں دل نہ لگنا ،مایوسی، اداسی،تنہائی، غیر ضروری ہنسنا ، رونا، چڑچڑاپن،محبت کے بے اعتدال جذبات ،حسد، جلن،غصّہ ، دوسروں کو نقصان پہچانے کی کوشش، مرگی، غیر مرئی اور مافوق الفطرت اشیاء کی موجودگی کا احساس ، جاگتی حالت میں خواب دیکھنا، ڈر جانا، جھٹکے لگنا ، بد حواس ہونا ، اولاد کا نہ ہونا یا ہو کر مر جانا،شدید نفسیاتی ہیجان وغیرہ وغیرہ اور اس سے متعلقہ بے شمار ’’روحانی مسائل‘‘ کا حل خاص قسم کے کلے پلیٹس میں پوشیدہ ہے جنہیں بروئے کار لا کر مسائل کے ” روحانی مسائل ” کا حل ڈھونڈاجا سکتا ہے کیونکہ کلے پلیٹس اللہ تعالیٰ کی عناعت کردہ فطری خصوصیات کے تحت کام کرتی ہیں ۔کسی مذہبی پیشوا یا پیر وغیرہ کے تعویز گنڈے یا کسی خالی خولی زبانی جمع خرچ جیسے عمل سے نہیں چلتی ہیں اسلئے یہ ایک سائنسی انداز میں جسم اور روح کے اعمال کی تصحیح کر کے امراض یا جسمانی اور روحانی بگاڑ کے ازالہ کا معجزہ انجام دیتی ہے۔

ہماری تحقیق یہ ہے کہ مکمل اور دیر پا علاج ادویہ میں ہر گز نہیں ہے قدرت نے خوراک کے اجزاء کے توازن میں خرابی کا علاج ان اجزاء کے نینوزکی شکل میں رکھا ہے ۔ نینوز آج کی انتہائی جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بنائے جاتے ہیں ۔ یہ نینو سکیل یا پیمانہ (1/1000,000,000میٹر) پر براستہ بافتی خلیہ میں براہ راست انجذاب کے ذریعہ خلیہ کے اندر سائٹو پلازم کے تحرک کے نتیجہ میں بافتوں میں اٹے ہوئے ضروری و غیر ضروری اجزاء کے انجماد یا اجتماع کو مخصوص مائع (سیرم) میں تحلیل کر کے جسم میں نظام انجذاب یا اخراج کے ذریعے دور یا ختم کر دئیے جاتے یں اور مریض بغیر ادویات کے مکمل صحت یاب ہو جاتا ہے ۔ یاد رکھئے نینوز ہماری خوراک مثلاً مختلف اناج ، سبزیوں ، پھلوں کے کشید اور قدرتی چشموں کے پانیوں کے مخصوص اور مفید معدنی اجزاء اور نمکیات کی نینو سکیل پر (یعنی انتہائی حقیر مقدار جو عموماً ہماری خوراک میں موجود اجزاء سے بھی کم ہو تی ہے )کیمیاوی ترکیب سے بنائے جاتے ہیں۔ اور یہ ہر گز ادویہؔ نہیں ہیں کیونکہ کسی چیز کے بطور دوا استعمال سے پہلے تجربات کے ذریعے اس کے کیمیائی خصائص اور جسم پر عمر اور وزن کے لحاظ سے مقدار کا تعین کر کے سمیتی اثرات ( سائیڈ ایفکٹس) کا اندازہ لگا یا جاتا ہے جبکہ نینوز کی مقدار کا عمر اور وزن سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے صرف دُہرانے کے مخصوص اوقات پر توجہ دی جاتی ہے ۔ یہ بغیر ادویہ کے ایک مکمل ’’جسمانی و روحانی ‘‘ مسائل کا بہترین اور دیر پا طریقہ علاج ہے ۔ نینوز اپنائیے ۔ اپنا علاج بغیر سمّی اثرات (سائیڈ ایفکٹس) خود کیجئے ۔ ادویاّ ت سے بچئے ، اپنی رقم بچائیے ۔ ماحول کو ادویاّ تی آلودگی سے بچائیے اور ایک صحت مند معاشرہ تشکیل دے کر اپنی اور ملکی ترقی میں حصہ ڈالئے ۔ نینوز بے ضررؔ ہیں ۔ انتہائی موثر علاج ہیں اور آ پ کی صحت کے مظبوط ترین ساتھی ۔ مزید معلومات کیلئے ہماری ویب سائٹ دیکھئے۔
نوٹ: علامات کی شدت ہو تو فوراً ہسپتال سے ابتدائی طبی مدد حاصل کریں ۔ حادثاتی اثرات میں کمی کے بعد نینوز کا استعمال جاری کیا جاسکتا ہے ۔ 

نینوز ادویہّ نہیں ۔علاج کا نام ہے ۔